مناجات جاوید نامہ
عبیداللہ قدسی اقبال اکادمی پاکستان تعارف رب کے حضور میں اقبال دعا مانگتے ہیں تیرے آسمانوں کے تاروں کی خیر زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر جوانوں کو سوز جگر بخش دے مرا شوق میری نظر بخش دے مرے دیدہء ترکی بے خوابیاں مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں امنگیں مری، آرزوئیں مری امیدیں مری، جستجوئیں مری یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر مرے قافلے میں لٹا دے اسے لٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے ان کی تمنا ہے : جوانو کو مری آہ سحر دے پھر ان شاہین بچوں کو بال وپر دے خدایا آرزو مری یہی ہے مرا نور بصیرت عام کر دے اقبال نوجوانوں کو حکمت کلیمی سے نوازنا چاہتے ہیں۔ جان افروز ،سینہ تاب، نور بصیرت،جو شرط راہ ہے، وہ عطا کرنا چاہتے ہیں۔ تجلی کی فراوانی سے اپنے دامن کی وسعت میں جو کچھ انہوں نے سمیٹ لیا ہے۔ حیات بر نفس یا خودی کے بحر بے رواں میں شعور وآگہی کے جو در آبدار ان کو ملے ہیں۔وہ اپنے قافلے میں لٹانے کے لئے بے چین ہیں۔ وہ نوجوانوں کو وہ عرفان وہدایت بخشنا چاہتے ہیں ،جو یقین محکم اور عمل پیہم کی بنیادیں دے سکے۔وہ دانائے راز اور درویش خدا مست ہیں۔ جن کی ذوق نگاہ نے لا الہ الا ا لا اللہ سے ...